instituteofislamicculture1950@gmail.com , iic-lhr@hotmail.com
(+92) 305 1128171, 03024480212
About Us ادارہ ثقافتِ اسلامیہ
ادارہ ثقافتِ اسلامیہ کا ایک تعارف
Institute of Islamic Culture ادارہ ثقافتِ اسلامیہ
کتابوں کی اشاعت اور فروخت
Institute of Islamic Culture Paraghraph 1
ادارہ ثقافتِ اسلامیہ ایک تعارف صدیوں سے علم و ثقافت کا مرکز رہنے والے لاہور کی مرکزی شاہراہ قائداعظم ___ جو دی مال اور مال روڈ بھی کہلاتی ہے___ پر کلب روڈ کے چوک میں جی او آر I اور ہوٹل پرل کانٹی نینٹل کے درمیان نرسنگھ داس گارڈن واقع ہے۔ ادارہ ثقافتِ اسلامیہ کا دفتر اسی چمن زار میں کولونیل عہد کی ایک پُرشکوہ عمارت میں واقع ہے۔ ادارہ ثقافتِ اسلامیہ کا قیام پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد 1950ء میں عمل میں آیا۔ اس کے قیام کا سب سے بڑا مقصد مسلم علوم و فنون کو جدید ذہن کے تقاضوں کے مطابق پیش کرنا تھا تاکہ وطن عزیز کی نئی نسلوں کے شعور و فہم کو نظریاتی آہنگ دیا جاسکے۔ اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ مسلمانوں کے علوم و افکار اور تہذیب و تمدن کے تحقیقی مطالعے کے حوالے سے گراں قدر خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ ادارہ ثقافتِ اسلامیہ کے قیام میں سید واجد علی شاہ صاحب مرحوم اور ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم مرحوم نے نمایاں دلچسپی لی تھی۔ اُن کی دلچسپی اور کاوشوں کے پیش نظر سید واجد علی شاہ صاحب کو ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا تاحیات چیئرمین اور ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کو ادارہ کا اولین ڈائریکٹر منتخب کیا گیا۔ ان واجب الاحترام بزرگوں نے تحقیق و تصنیف اور اشاعت کی ایک گراں قدر روایت کی داغ بیل ڈالی۔ شاہ صاحب 2009ء میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے اور سید شاہد علی اُن کے جانشین منتخب ہوئے۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کا انتقال 1959ء میں ہوا تھا اور اس نامور فلسفی کی جگہ پروفیسر ایم ایم شریف نے لی، وہ قبل ازیں علی گڑھ یونیورسٹی میں فلسفے کے پروفیسر اور آل انڈیا فلاسفیکل کانگریس کے صدر رہ چکے تھے۔ روز اول سے ملک کے نامور اہل علم اس ادارے سے وابستہ رہے ہیں۔ اُن میں اس ادارے کے کئی ڈائریکٹر مثلاً ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، پروفیسر ایم ایم شریف، جناب شیخ محمد اکرام، پروفیسر سعید شیخ، جناب سراج منیر، ڈاکٹر رشید احمد جالندھری کے علاوہ مولانا محمد حنیف ندوی مرحوم، مولانا جعفر شاہ پھلواروی مرحوم، جناب رئیس احمد جعفری مرحوم، پروفیسر حمید احمد خان مرحوم، جناب شاہد حسین رزاقی، مولانا محمد اسحاق مرحوم اور پروفیسر مظہر الدین صدیقی شامل ہیں۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ (2) اشاعت کتب ادارہ ثقافت اسلامیہ کی سب سے نمایاں فعالیت ہے۔ یہ ادارہ اب تک چارسو کے لگ بھگ کتابیں شائع کرچکا ہے۔ ان میں زیادہ تعداد اردو زبان میں لکھی جانے والی کتابوں کی ہے تاہم 80 سے زیادہ کتابیں انگریزی زبان میں ہیں جو نہ صرف پاکستانی قارئین بلکہ بین الاقوامی قارئین کو بھی پیش نظر رکھتے ہوئے تحریر کی گئی ہیں اور اُن تک پہنچی بھی ہیں۔ ادارہ کی مطبوعات میں علمی و تحقیقی کام، تراجم اور تالیفات شامل ہیں۔ عہد جدید سے تعلق رکھنے والے مسائل پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ ان مطبوعات کی اہمیت کا اندرون ملک اور بین الاقوامی سطح پر بھی اعتراف کیا گیا ہے۔ ملک کے چیدہ سکالرز کے علاوہ ادارے کو بین الاقوامی سطح کے مفکرین کی نگارشات شائع کرنے کا شرف بھی حاصل ہے۔ یوں تحقیق و اشاعت کی دوتہائی صدی پر پھیلی ہوئی اس درخشندہ روایت ہے۔ موضوعات کے وسیع دائرے میں ایسی مطبوعات کا ایک قابل قدر ذخیرہ فراہم کردیا ہے جس کی ذہنی، علمی اور ثقافتی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ گزشتہ 67 برسوں میں ادارے کی مطبوعات نے مسلم تہذیبی شعور کی تربیت اور فروغ میں قابل ذکر کردار ادا کیا ہے۔ ادارے کی اشاعتی سرگرمیوں کا دائرہ قرآن و حدیث سے فقہ، تفسیر، تعلیم و تدریس، تاریخ و سوانح، تہذیب و تمدن، اخلاق و تصوف اور ادبیات تک پھیلا ہوا ہے۔ جدید مسلم ذہن کی تشکیل میں یہ مطبوعات اہم حصہ لے رہی ہیں۔ (3) اشاعت کتب کے علاوہ ادارہ المعارف کے نام سے ایک علمی اور تحقیقی مجلہ بھی شائع کرتا ہے۔ اس مجلہ کا آغاز جنوری 1955ء سے ماہنامہ کے طور پر ہوا تھا اور 1967ء کے آخری ماہ تک وہ باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا۔ فروری 1968ء میںاس کانام بدل کر ثقافت کے بجائے المعارف رکھ دیا گیا۔ اس نام سے یہ ماہوار جریدہ 1984ء تک باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا۔ دسمبر 1984ء میںبعض انتظامی تبدیلیوں کے باعث المعارف کے ماہانہ کے بجائے خصوصی شمارے شائع ہوتے رہے۔ اگلے چودہ برسوں تک اس کے آٹھ خصوصی شمارے منظر عام پر آئے۔ بعد ازاں بعض انتظامی مسائل اور نہایت قلیل مالی وسائل کی وجہ سے اس جریدے کی اشاعت بے قاعدہ رہی۔ بہرحال 2009ء سے المعارف ماہوار کے بجائے ششماہی بنیاد پر باقاعدگی سے قارئین تک پہنچ رہا ہے۔ مذکورہ رکاوٹوں کے باوجود المعارف کا علمی معیار برقرار رہا ہے اور یہ ہمارے ملک کے وقیع علمی جراید میںشمار ہوتا ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر قاضی جاوید المعارف کے ایڈیٹر ہیں۔ اس کی مجلس مشاورت میںجناب افضل حق قرشی، ------ اور قاضی جاوید شامل ہیں۔ ادارہ ثقافتِ اسلامیہ نے حال ہی میں جریدہ ثقافت؍المعارف کے 60 سالہ اشاریہ شائع کیا ہے۔ یہ اشاریہ موضوع وار ہے اور مصنف وار بھی۔ اس کے مرتب محمد شاہد حنیف ہیںجو اس سیپہلے کئی اور علمی و ادبی رسائل کے اشاریے مرتب کرچکے ہیں۔ (4) لاہور کے عین وسط میں ہوتے ہوئے بھی ادارہ کی مجموعی فضا شہر کے عمومی مزاج سے مختلف ہے۔ وسیع کمپائونڈ، درختوں اور پودوں کے درمیان علمی سکون اور وقار نے ایک ایسا ماحول پیدا کررکھا ہے جو علمی و تحقیقی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار لانے میںمعاون ثابت ہوتا ہے۔ اس خاموشی اور سکون بخش ماحول میں ادارہ کی لائبریری واقع ہے۔ یہ جنرل لائبریری نہیں ہے بلکہ اس میں اُن موضوعات پر کتب شامل ہیں جن سے ادارہ کو زیادہ دلچسپی ہے۔ چنانچہ زیادہ تر کتب مذہبیات، فلسفہ، تاریخ، ادبیات اور تہذیب و ثقافت کے موضوعات پر ہیں۔ یہ کتابیںگزشتہ دو تہائی صدی کے دوران ادارہ کے نامور ناظمین اور قومی مستقبل کو پیش نظر رکھنے والے ماہرین نے منتخب کی ہیں۔لائبریری میںکتب کی مجموعی تعداد 25 ہزار سے زیادہ ہے۔ زیادہ تر کتابیں انگریزی زبان میں ہیں، لیکن اردو، فارسی اور عربی زبانوںمیںبھی کتابیں موجود ہیں۔ بلاشبہ یہ ہمارے خطے میںمذکورہ بالا موضوعات پر بہترین کتب کا ذخیرہ ہے اور قابلِ ذکر قومی و ثقافتی اثاثہ ہے۔ (5) بیسویں صدی کی آخری دہائی سے ادارہ ثقافت اسلامیہ نے اپنے بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کی یادمیں سالانہ یادگاری خطبہ کا ایک سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ یہ خطبہ خلیفہ صاحب کی زندگی، شخصیت اور ان کے نظریات کے علاوہ اُن کی دلچسپی کے کسی موضوع پر دیا جاتا ہے۔ ملک کی کئی ممتاز علمی شخصیات یہ یادگاری خطبات دے چکی ہیں۔ ان میں، دوسروںکے علاوہ، ڈاکٹر منظور احمد، احمد ندیم قاسمی، محمد خالد مسعود، ڈاکٹر حسین محمد جعفری، پروفیسر فتحمحمد ملک، انتظار حسین ، آئی اے رحمان اور ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا شامل ہیں۔ ادارہ نے ان خطبات کو خطبات بیاد خلیفہ عبدالحکیم کے عنوان سے کتابی صورت میںشائع بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ادارہ وقتاً فوقتاً مختلف موضوعات پر سیمینارز اور لیکچرز کا اہتمام کرتا رہتا ہے۔ (6) ابتدا ہی سے ادارے کو وطن عزیز کے نامور سکالرز اور اہل قلم کا تعاون حاصل رہا ہے۔ ادارے نے جن مصنفین کی کتابیںشائع کی ہے ان میںایسے صاحبان شامل ہیںجو علم و دانش کے حوالے سے پورے ملک میںجانے پہچانے ہیں۔ ان میںسے چند ایک کے نام درج ذیل ہیں: 1 ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم 2 پروفیسر ایم ایم شریف 3 مولانا محمد حنیف ندوی 4 مولانا محمد جعفر شاہ پھلواروی 5 شیخ محمد اکرام 6 ڈاکٹر منظور احمد 7 پروفیسر محمد سرور 8 مولانا محمد اسحاق بھٹی 9 پروفیسر حمید احمد خان 10 ڈاکٹر ایوب قادری 11 ڈاکٹر محمد رفیع الدین 12 بشیر احمد ڈار 13 ڈاکٹر محمد خالد مسعود 14 ڈاکٹر برہان احمد فاروقی 15 سید ظفر الحسن 16 ڈاکٹر مہر عبدالحق 17 رئیس احمد جعفری 18 خواجہ عبداللہ اختر 19 مولانا محمد مظہر الدین 20 ڈاکٹر اظہر علی رضوی 21 عبیداللہ قدسی 22 جسٹس ایس اے رحمان (7) ادارہ ثقافتِاسلامیہ ایک غیر سرکاری ادارہ ہے جس کے پالیسی امور اور اُس کی سرگرمیوں کی نگرانی ایک بورڈ آف ڈائریکٹرز کرتا ہے۔ 1950ء میںسید واجد علی شاہ مرحوم اس بورڈ کے تا حیات صدر نشین منتخب ہوئے تھے۔ ان کی وفات کے بعد سید شاہد علی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ہیں۔ اس وقت مندرجہ ذیل صاحبان بورڈ کے رکن ہیں: (1) سید شاہد علی صاحب (چیئرمین) (2) ڈاکٹر خالد حمید شیخ صاحب (پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر) (3) ڈاکٹر خالد آفتاب صاحب (گورنمنٹکالج یونیورسٹی، لاہور کے سابق وائس چانسلر) (4) ڈاکٹر رفیعہ حسن صاحبہ (پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اطلاقی نفسیات کی سابق چیئر پرسن) (5) نیر علی دادا صاحب (معروف ماہر تعمیرات اور دانش ور) (6) ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب (عربی زبان و ادب کے معروف سکالر) (7) ڈاکٹر عبدالخالق صاحب (پاکستان فلاسفیکل کانگریس کے سابق سربراہ) (8) شاہنواز زیدی صاحب (شعبہ فنون لطیفہ ، پنجاب یونیورسٹی کے سابق سربراہ) (9) سیکرٹری اطلاعات و ثقافت، حکومت پنجاب (رکن بلحاظ عہدہ) (10) چیئرمین، اکادمی ادبیات پاکستان (رکن بلحاظ عہدہ) (11) جناب قاضی جاوید ان کے علاوہ مندرجہ ذیل صاحبان ماضی میں بورڈ آف ڈائریکٹڑز کے رکن رہ چکے ہیں: جناب انتظار حسین (مرحوم) ڈاکٹر محمد افضل (مرحوم) جسٹس سردارمحمد اقبال (مرحوم) لیفٹینٹ جنرل غلام صفدر (مرحوم) جناب ملک محمد حنیف (مرحوم) خان بہادر عبدالعزیز (مرحوم) لیفٹینٹ کرنل عبدالرشید (مرحوم) خواجہ بشیر بخش (مرحوم) مسیح الدین صدیقی (مرحوم) جسٹس ایس اے رحمان (مرحوم) پروفیسر حمید اللہ خان (مرحوم) (8) ادارہ ثقافتِ اسلامیہ کے ناظمین کی فہرست حسب ذیل ہے: (1) ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم 1950ء __ 1959ء (2) پروفیسر ایم ایم شریف 1959ء __ 1965ء (3) ڈاکٹر شیخ محمد اکرام 1966ء __ 1972ء (4) پروفیسر محمد سعید شیخ 1973ء __ 1984ء (5) جناب سراج منیر 1984ء __ 1990ء (6) جناب سہیل عمر 1990 ء __ 1992ء (7) ڈاکٹر رشید احمد جالندھری 1992ء __ 2009ء (8) جناب قاضی جاوید 2009ء__ 2020&ء (9) ڈاکٹر مظہر معین 2020ء__ 2024ء (10) میڈم ندیٰ حسن 2024ء__ ادارہ ثقافتِ اسلامیہ ایک تعارف صدیوں سے علم و ثقافت کا مرکز رہنے والے لاہور کی مرکزی شاہراہ قائداعظم ___ جو دی مال اور مال روڈ بھی کہلاتی ہے___ پر کلب روڈ کے چوک میں جی او آر I اور ہوٹل پرل کانٹی نینٹل کے درمیان نرسنگھ داس گارڈن واقع ہے۔ ادارہ ثقافتِ اسلامیہ کا دفتر اسی چمن زار میں کولونیل عہد کی ایک پُرشکوہ عمارت میں واقع ہے۔ ادارہ ثقافتِ اسلامیہ کا قیام پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد 1950ء میں عمل میں آیا۔ اس کے قیام کا سب سے بڑا مقصد مسلم علوم و فنون کو جدید ذہن کے تقاضوں کے مطابق پیش کرنا تھا تاکہ وطن عزیز کی نئی نسلوں کے شعور و فہم کو نظریاتی آہنگ دیا جاسکے۔ اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ مسلمانوں کے علوم و افکار اور تہذیب و تمدن کے تحقیقی مطالعے کے حوالے سے گراں قدر خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ ادارہ ثقافتِ اسلامیہ کے قیام میں سید واجد علی شاہ صاحب مرحوم اور ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم مرحوم نے نمایاں دلچسپی لی تھی۔ اُن کی دلچسپی اور کاوشوں کے پیش نظر سید واجد علی شاہ صاحب کو ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا تاحیات چیئرمین اور ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کو ادارہ کا اولین ڈائریکٹر منتخب کیا گیا۔ ان واجب الاحترام بزرگوں نے تحقیق و تصنیف اور اشاعت کی ایک گراں قدر روایت کی داغ بیل ڈالی۔ شاہ صاحب 2009ء میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے اور سید شاہد علی اُن کے جانشین منتخب ہوئے۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کا انتقال 1959ء میں ہوا تھا اور اس نامور فلسفی کی جگہ پروفیسر ایم ایم شریف نے لی، وہ قبل ازیں علی گڑھ یونیورسٹی میں فلسفے کے پروفیسر اور آل انڈیا فلاسفیکل کانگریس کے صدر رہ چکے تھے۔ روز اول سے ملک کے نامور اہل علم اس ادارے سے وابستہ رہے ہیں۔ اُن میں اس ادارے کے کئی ڈائریکٹر مثلاً ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، پروفیسر ایم ایم شریف، جناب شیخ محمد اکرام، پروفیسر سعید شیخ، جناب سراج منیر، ڈاکٹر رشید احمد جالندھری کے علاوہ مولانا محمد حنیف ندوی مرحوم، مولانا جعفر شاہ پھلواروی مرحوم، جناب رئیس احمد جعفری مرحوم، پروفیسر حمید احمد خان مرحوم، جناب شاہد حسین رزاقی، مولانا محمد اسحاق مرحوم اور پروفیسر مظہر الدین صدیقی شامل ہیں۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ (2) اشاعت کتب ادارہ ثقافت اسلامیہ کی سب سے نمایاں فعالیت ہے۔ یہ ادارہ اب تک چارسو کے لگ بھگ کتابیں شائع کرچکا ہے۔ ان میں زیادہ تعداد اردو زبان میں لکھی جانے والی کتابوں کی ہے تاہم 80 سے زیادہ کتابیں انگریزی زبان میں ہیں جو نہ صرف پاکستانی قارئین بلکہ بین الاقوامی قارئین کو بھی پیش نظر رکھتے ہوئے تحریر کی گئی ہیں اور اُن تک پہنچی بھی ہیں۔ ادارہ کی مطبوعات میں علمی و تحقیقی کام، تراجم اور تالیفات شامل ہیں۔ عہد جدید سے تعلق رکھنے والے مسائل پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ ان مطبوعات کی اہمیت کا اندرون ملک اور بین الاقوامی سطح پر بھی اعتراف کیا گیا ہے۔ ملک کے چیدہ سکالرز کے علاوہ ادارے کو بین الاقوامی سطح کے مفکرین کی نگارشات شائع کرنے کا شرف بھی حاصل ہے۔ یوں تحقیق و اشاعت کی دوتہائی صدی پر پھیلی ہوئی اس درخشندہ روایت ہے۔ موضوعات کے وسیع دائرے میں ایسی مطبوعات کا ایک قابل قدر ذخیرہ فراہم کردیا ہے جس کی ذہنی، علمی اور ثقافتی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ گزشتہ 67 برسوں میں ادارے کی مطبوعات نے مسلم تہذیبی شعور کی تربیت اور فروغ میں قابل ذکر کردار ادا کیا ہے۔ ادارے کی اشاعتی سرگرمیوں کا دائرہ قرآن و حدیث سے فقہ، تفسیر، تعلیم و تدریس، تاریخ و سوانح، تہذیب و تمدن، اخلاق و تصوف اور ادبیات تک پھیلا ہوا ہے۔ جدید مسلم ذہن کی تشکیل میں یہ مطبوعات اہم حصہ لے رہی ہیں۔ (3) اشاعت کتب کے علاوہ ادارہ المعارف کے نام سے ایک علمی اور تحقیقی مجلہ بھی شائع کرتا ہے۔ اس مجلہ کا آغاز جنوری 1955ء سے ماہنامہ کے طور پر ہوا تھا اور 1967ء کے آخری ماہ تک وہ باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا۔ فروری 1968ء میںاس کانام بدل کر ثقافت کے بجائے المعارف رکھ دیا گیا۔ اس نام سے یہ ماہوار جریدہ 1984ء تک باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا۔ دسمبر 1984ء میںبعض انتظامی تبدیلیوں کے باعث المعارف کے ماہانہ کے بجائے خصوصی شمارے شائع ہوتے رہے۔ اگلے چودہ برسوں تک اس کے آٹھ خصوصی شمارے منظر عام پر آئے۔ بعد ازاں بعض انتظامی مسائل اور نہایت قلیل مالی وسائل کی وجہ سے اس جریدے کی اشاعت بے قاعدہ رہی۔ بہرحال 2009ء سے المعارف ماہوار کے بجائے ششماہی بنیاد پر باقاعدگی سے قارئین تک پہنچ رہا ہے۔ مذکورہ رکاوٹوں کے باوجود المعارف کا علمی معیار برقرار رہا ہے اور یہ ہمارے ملک کے وقیع علمی جراید میںشمار ہوتا ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر قاضی جاوید المعارف کے ایڈیٹر ہیں۔ اس کی مجلس مشاورت میںجناب افضل حق قرشی، ------ اور قاضی جاوید شامل ہیں۔ ادارہ ثقافتِ اسلامیہ نے حال ہی میں جریدہ ثقافت؍المعارف کے 60 سالہ اشاریہ شائع کیا ہے۔ یہ اشاریہ موضوع وار ہے اور مصنف وار بھی۔ اس کے مرتب محمد شاہد حنیف ہیںجو اس سیپہلے کئی اور علمی و ادبی رسائل کے اشاریے مرتب کرچکے ہیں۔ (4) لاہور کے عین وسط میں ہوتے ہوئے بھی ادارہ کی مجموعی فضا شہر کے عمومی مزاج سے مختلف ہے۔ وسیع کمپائونڈ، درختوں اور پودوں کے درمیان علمی سکون اور وقار نے ایک ایسا ماحول پیدا کررکھا ہے جو علمی و تحقیقی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار لانے میںمعاون ثابت ہوتا ہے۔ اس خاموشی اور سکون بخش ماحول میں ادارہ کی لائبریری واقع ہے۔ یہ جنرل لائبریری نہیں ہے بلکہ اس میں اُن موضوعات پر کتب شامل ہیں جن سے ادارہ کو زیادہ دلچسپی ہے۔ چنانچہ زیادہ تر کتب مذہبیات، فلسفہ، تاریخ، ادبیات اور تہذیب و ثقافت کے موضوعات پر ہیں۔ یہ کتابیںگزشتہ دو تہائی صدی کے دوران ادارہ کے نامور ناظمین اور قومی مستقبل کو پیش نظر رکھنے والے ماہرین نے منتخب کی ہیں۔لائبریری میںکتب کی مجموعی تعداد 25 ہزار سے زیادہ ہے۔ زیادہ تر کتابیں انگریزی زبان میں ہیں، لیکن اردو، فارسی اور عربی زبانوںمیںبھی کتابیں موجود ہیں۔ بلاشبہ یہ ہمارے خطے میںمذکورہ بالا موضوعات پر بہترین کتب کا ذخیرہ ہے اور قابلِ ذکر قومی و ثقافتی اثاثہ ہے۔ (5) بیسویں صدی کی آخری دہائی سے ادارہ ثقافت اسلامیہ نے اپنے بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کی یادمیں سالانہ یادگاری خطبہ کا ایک سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ یہ خطبہ خلیفہ صاحب کی زندگی، شخصیت اور ان کے نظریات کے علاوہ اُن کی دلچسپی کے کسی موضوع پر دیا جاتا ہے۔ ملک کی کئی ممتاز علمی شخصیات یہ یادگاری خطبات دے چکی ہیں۔ ان میں، دوسروںکے علاوہ، ڈاکٹر منظور احمد، احمد ندیم قاسمی، محمد خالد مسعود، ڈاکٹر حسین محمد جعفری، پروفیسر فتحمحمد ملک، انتظار حسین ، آئی اے رحمان اور ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا شامل ہیں۔ ادارہ نے ان خطبات کو خطبات بیاد خلیفہ عبدالحکیم کے عنوان سے کتابی صورت میںشائع بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ادارہ وقتاً فوقتاً مختلف موضوعات پر سیمینارز اور لیکچرز کا اہتمام کرتا رہتا ہے۔ (6) ابتدا ہی سے ادارے کو وطن عزیز کے نامور سکالرز اور اہل قلم کا تعاون حاصل رہا ہے۔ ادارے نے جن مصنفین کی کتابیںشائع کی ہے ان میںایسے صاحبان شامل ہیںجو علم و دانش کے حوالے سے پورے ملک میںجانے پہچانے ہیں۔ ان میںسے چند ایک کے نام درج ذیل ہیں: 1 ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم 2 پروفیسر ایم ایم شریف 3 مولانا محمد حنیف ندوی 4 مولانا محمد جعفر شاہ پھلواروی 5 شیخ محمد اکرام 6 ڈاکٹر منظور احمد 7 پروفیسر محمد سرور 8 مولانا محمد اسحاق بھٹی 9 پروفیسر حمید احمد خان 10 ڈاکٹر ایوب قادری 11 ڈاکٹر محمد رفیع الدین 12 بشیر احمد ڈار 13 ڈاکٹر محمد خالد مسعود 14 ڈاکٹر برہان احمد فاروقی 15 سید ظفر الحسن 16 ڈاکٹر مہر عبدالحق 17 رئیس احمد جعفری 18 خواجہ عبداللہ اختر 19 مولانا محمد مظہر الدین 20 ڈاکٹر اظہر علی رضوی 21 عبیداللہ قدسی 22 جسٹس ایس اے رحمان (7) ادارہ ثقافتِاسلامیہ ایک غیر سرکاری ادارہ ہے جس کے پالیسی امور اور اُس کی سرگرمیوں کی نگرانی ایک بورڈ آف ڈائریکٹرز کرتا ہے۔ 1950ء میںسید واجد علی شاہ مرحوم اس بورڈ کے تا حیات صدر نشین منتخب ہوئے تھے۔ ان کی وفات کے بعد سید شاہد علی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ہیں۔ اس وقت مندرجہ ذیل صاحبان بورڈ کے رکن ہیں: (1) سید شاہد علی صاحب (چیئرمین) (2) ڈاکٹر خالد حمید شیخ صاحب (پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر) (3) ڈاکٹر خالد آفتاب صاحب (گورنمنٹکالج یونیورسٹی، لاہور کے سابق وائس چانسلر) (4) ڈاکٹر رفیعہ حسن صاحبہ (پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اطلاقی نفسیات کی سابق چیئر پرسن) (5) نیر علی دادا صاحب (معروف ماہر تعمیرات اور دانش ور) (6) ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب (عربی زبان و ادب کے معروف سکالر) (7) ڈاکٹر عبدالخالق صاحب (پاکستان فلاسفیکل کانگریس کے سابق سربراہ) (8) شاہنواز زیدی صاحب (شعبہ فنون لطیفہ ، پنجاب یونیورسٹی کے سابق سربراہ) (9) سیکرٹری اطلاعات و ثقافت، حکومت پنجاب (رکن بلحاظ عہدہ) (10) چیئرمین، اکادمی ادبیات پاکستان (رکن بلحاظ عہدہ) (11) جناب قاضی جاوید ان کے علاوہ مندرجہ ذیل صاحبان ماضی میں بورڈ آف ڈائریکٹڑز کے رکن رہ چکے ہیں: جناب انتظار حسین (مرحوم) ڈاکٹر محمد افضل (مرحوم) جسٹس سردارمحمد اقبال (مرحوم) لیفٹینٹ جنرل غلام صفدر (مرحوم) جناب ملک محمد حنیف (مرحوم) خان بہادر عبدالعزیز (مرحوم) لیفٹینٹ کرنل عبدالرشید (مرحوم) خواجہ بشیر بخش (مرحوم) مسیح الدین صدیقی (مرحوم) جسٹس ایس اے رحمان (مرحوم) پروفیسر حمید اللہ خان (مرحوم) (8) ادارہ ثقافتِ اسلامیہ کے ناظمین کی فہرست حسب ذیل ہے: (1) ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم 1950ء __ 1959ء (2) پروفیسر ایم ایم شریف 1959ء __ 1965ء (3) ڈاکٹر شیخ محمد اکرام 1966ء __ 1972ء (4) پروفیسر محمد سعید شیخ 1973ء __ 1984ء (5) جناب سراج منیر 1984ء __ 1990ء (6) جناب سہیل عمر 1990 ء __ 1992ء (7) ڈاکٹر رشید احمد جالندھری 1992ء __ 2009ء (8) جناب قاضی جاوید 2009ء__ 2020ء (9) ڈاکٹر مظہر معین 2020ء__ 2024ء (10) میڈم ندیٰ حسن 2024ء__ 2025 (11)ڈاکڑ مظفر عباس 2025ٗٗء __ فہرست کتب ادارہ ثقافتِ اسلامیہ نے اردو اور انگریزی زبانوں میں مذہب، فلسفہ، تاریخ، ادب اور متعلقہ موضوعات پر تین سو کے قریب کتابیں میںشائع کی ہیں۔ کتابوں کی فہرست درج ذیل ہے:
Institute of Islamic Culture Paraghraph 2
Institute of Islamic Culture Paraghraph 3
پیراگراف ۳
Floral Lined Jacket
Gray / XL
1 X $113.88
Frayed Layered Sleeve